جالنا سے بلند ہوئی للکار: وقف قانون منسوخ نہ ہوا تو دہلی کوچ
وقف بچاؤ کونسل کے جلسے میں ہزاروں افراد کی شرکت
جالنا: پورے ملک میں متنازع وقف قانون میں ترمیم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کے درمیان ہفتہ کو جالنا شہر نے ایک تاریخی اور فیصلہ کن تحریک کی بنیاد رکھی۔ ہزاروں مسلمانوں کی موجودگی میں منعقدہ اس عظیم الشان عوامی جلسے نے مرکزی حکومت کو واضح پیغام دیا — اگر 13 جولائی تک وقف قانون میں کی گئی ترمیم واپس نہیں لی گئی، تو مسلمان کفن باندھ کر دہلی کے جنتر منتر تک پُرامن لیکن مضبوط مارچ کریں گے۔
“وقف بچاؤ کونسل” کے بینر تلے منعقد اس جلسے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اہم علماء، سماجی کارکنان اور سیاسی رہنما موجود تھے۔ مقررین نے اسٹیج سے کہا کہ یہ صرف جائیداد کی نہیں، بلکہ اسلامی شناخت، مذہبی آزادی اور بھارتی آئین کے تحفظ کی لڑائی ہے۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی: “یہ قانون صرف مذہبی املاک پر حملہ نہیں، بلکہ ملک کی سماجی یکجہتی پر ضرب ہے۔ یہ ہمارے ایمان، وقار اور وجود کا سوال ہے۔”
مولانا رفیع الدین اشرفی نے کہا کہ یہ تحریک نہ منافع یا نقصان کے لیے ہے، نہ زمین جائیداد کے لیے، بلکہ اسلام کے خلاف لائے گئے کالے قانون کے خلاف احتجاج ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے یہ قانون واپس نہیں لیا تو یہ تحریک دہلی سے ہر گلی تک پھیل جائے گی۔
مولانا عمرین محفوظ رحمانی: “وقف املاک مسلمانوں کے بزرگوں کی خون پسینے کی امانت ہیں۔ ان کا تحفظ صرف شرعی ہی نہیں، تاریخی ذمہ داری بھی ہے۔”
اجلاس میں منظور کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ نئی ترمیم مسلمانوں کو وقف املاک کی آئینی حفاظت سے محروم کرتی ہے، جبکہ دیگر مذاہب کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔ یہ آئینی مساوات اور جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔
سیاسی حمایت بھی کھل کر سامنے آئی
سابق ایم ایل اے کیلاش گورنتیال نے کہا کہ مسلمانوں کی املاک پر صرف مسلم نمائندوں کا حق ہونا چاہیے۔ کسی بیرونی مداخلت کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے شردی اور تروپتی جیسے اداروں کی مثال دی۔
ایم پی ڈاکٹر کلیان کالے نے کہا کہ کانگریس پارٹی مسلم برادری کے ساتھ ہے، اور ضرورت پڑنے پر وہ خود سڑک پر اتریں گے۔
جلسے میں دیگر رہنماؤں میں راجیش ٹوپے، راجابھاؤ دیشمکھ، ڈاکٹر نثار دیشمکھ، بھاسکر امبیکر، شیخ اسماعیل، مفتی عبدالرحمٰن، ع. رؤف ندوی شامل تھے۔


Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।







































































































Leave a Reply