विज्ञापन

۴۷۰ ایکڑ وقف جائیداد، بجلی چوری اور درگاہ میں بدانتظامی: حضرت جان اللّٰہ شاہ درگاہ پر سوالیہ نشان

IMG-20250622-WA0007-1






۴۷۰ ایکڑ کی وقف جائیداد، لیکن درگاہ میں بجلی چوری!



۴۷۰ ایکڑ کی وقف جائیداد، لیکن درگاہ میں بجلی چوری! جان اللّٰہ درگاہ میں اندھیر نگری کی انتہا

جالنا: شہر جالنا کے قلب میں واقع ۴۷۰ ایکڑ وقف جائیداد پر مشتمل تاریخی و مذہبی اہمیت کی حامل حضرت جان اللّٰہ شاہ درگاہ ان دنوں بدانتظامی اور سنگین غفلت کی زندہ مثال بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف درگاہ کی جائیداد پر موجود کرایہ داروں سے لاکھوں روپے کی آمدنی ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف درگاہ کا ₹34,300 بجلی بل بھی ادا نہیں کیا گیا ہے۔

نتیجتاً اب درگاہ کو چوری کی بجلی سے روشن کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے بلکہ اسلامی اصولوں کی بھی توہین کی جا رہی ہے۔

الزام ہے کہ وقف جائیداد سے حاصل شدہ آمدنی درگاہ کی دیکھ بھال پر خرچ ہونے کے بجائے انتظامیہ کمیٹی کے افراد کے ذاتی عیش و آرام پر اڑا دی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی رقم آخر جا کہاں رہی ہے؟

شہر کے پُر وقار اور مرکزی مقام پر واقع حضرت جان اللّٰہ شاہ درگاہ، مسجد، خانقاہ اور قبرستان شدید بدحالی کا شکار ہیں۔ حالانکہ درگاہ کی وقف جائیداد تقریباً ۴۷۰ ایکڑ ہے اور اس پر ۶۰۰ سے زائد کرایہ دار رجسٹرڈ ہیں، اس کے باوجود درگاہ کا احاطہ ٹوٹ پھوٹ، گندگی اور غفلت کا منظر پیش کر رہا ہے۔

بڑے مذہبی مواقع جیسے سندل اور عرس پر بھی نہ کوئی تزئین و آرائش کی گئی، نہ ہی صفائی ستھرائی کا خاص انتظام، جس کی وجہ سے عقیدت مندوں میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔

خادم کا الزام: غیر قانونی بجلی کنیکشن سے روشنی

درگاہ کے خادم جناب محمد جاوید محمد یوسف نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ₹34,300 کا بقایا بجلی بل نہ بھرنے کی وجہ سے بجلی محکمہ نے درگاہ کا کنیکشن کاٹ دیا، جس کے بعد غیر قانونی طریقے سے ڈائریکٹ کنیکشن لے کر درگاہ کو روشنی دی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ دن رات ہیوی فلوڈ لائٹس بھی چلائی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل نہ صرف قانوناً جرم ہے بلکہ اسلامی شریعت کے مطابق بھی ناجائز اور بڑا گناہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درگاہ اور مسجد جیسے مقدس مقامات پر اس طرح کی حرکتیں ان کی پاکیزگی کو مجروح کر رہی ہیں۔

وقف بورڈ کو کئی بار تحریری شکایت دی گئی، لیکن تاحال کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ہے۔

آمدنی کا غلط استعمال، کوئی شفافیت نہیں

تشویشناک بات یہ ہے کہ درگاہ سے حاصل ہونے والی آمدنی درگاہ کی خدمت اور دیکھ بھال پر خرچ نہیں ہو رہی، بلکہ انتظامیہ کمیٹی کے کچھ افراد اس رقم کا ذاتی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ رقم آخر کہاں خرچ کی جا رہی ہے، اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

درگاہ، مسجد، خانقاہ اور قبرستان جیسے مقدس مقامات کی حالت روز بہ روز بگڑتی جا رہی ہے، نہ کوئی مرمت ہو رہی ہے اور نہ ہی صفائی کا معقول بندوبست کیا جا رہا ہے۔

درگاہ کی تصویر بھی بنی ثبوت

درگاہ میں دن کے وقت بھی جلتی لائٹس

درگاہ میں دوپہر کے وقت ہائی وولٹیج لائٹس جلتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

یہ وہی لائٹس ہیں جو غیر قانونی بجلی کنیکشن سے چل رہی ہیں اور دن میں بھی بند نہیں کی جا سکتیں، جس سے بجلی کا بے تحاشا ضیاع ہو رہا ہے۔

وقف بورڈ اور انتظامیہ کا خاموش تماشائی بننا

وقف بورڈ اور مقامی انتظامیہ اس سنگین صورتحال پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، نہ کوئی جانچ، نہ کارروائی۔ نتیجتاً کمیٹی کا حوصلہ بڑھ رہا ہے اور وقف جائیدادوں کی حرمت، شفافیت اور اصل مقصد خطرے میں پڑتے جا رہے ہیں۔

یہ معاملہ وقف جائیدادوں کے تحفظ اور مذہبی مقامات کی حرمت کے حوالے سے گہری تشویش کا باعث ہے۔

وقف بورڈ اور ضلعی انتظامیہ کو فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ حضرت جان اللّٰہ شاہ درگاہ کی تاریخی عظمت، تقدس اور انتظامی شفافیت کو بحال رکھا جا سکے۔


IMG-20250622-WA0007
image_1750600822489-1

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें

नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।

author avatar
इमरान सिद्दीकी

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading