اردو ہائی اسکول میں داخلے سے محروم طالب علم کو ملے گا انصاف: تعلیمی افسر کی کارروائی
جالنہ: تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، نہ کہ کسی ادارے کی مہربانی — اسی اصول کو مضبوطی سے پیش نظر رکھتے ہوئے ضلع پریشد کے ثانوی تعلیمی افسر نے کچیری روڈ، جونا جالنہ میں واقع اردو ہائی اسکول کی جانب سے طالب علم محمد دانش کو آٹھویں جماعت میں مستقل داخلہ دینے سے انکار کے فیصلے پر سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ تعلیمی افسر نے اس معاملے میں گٹ شکشن ادھیکاری کو فوری تحقیقات کرکے مناسب کارروائی کی ہدایت دی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ جالنہ کے دھورپورہ، رام نگر علاقے کے رہائشی ایڈوکیٹ شیخ فیروز ظہیر میاں نے 27 جون 2025 کو تحریری شکایت پیش کی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے بیٹے محمد دانش کو پہلے عارضی طور پر آٹھویں جماعت میں داخلہ دیا گیا، لیکن بعد میں مستقل داخلے سے انکار کر دیا گیا۔
شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ثانوی تعلیمی افسر نے گٹ شکشن ادھیکاری، پنچایت سمیتی جالنہ کو خط کے ذریعے ہدایت دی کہ وہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کریں، قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں، اور یہ یقینی بنائیں کہ طالب علم کا تعلیمی مستقبل کسی بھی طرح متاثر نہ ہو۔
یہ معاملہ “مفت اور لازمی تعلیم برائے اطفال کا حق ایکٹ، 2009” کے تحت آتا ہے، جس کے مطابق 6 سے 14 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت تعلیم حاصل کرنا ان کا آئینی حق ہے۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی تفریق یا غیر ضروری رکاوٹ قانوناً غلط ہے۔
افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھیں، اسکول انتظامیہ کے کردار کی گہرائی سے چھان بین کریں، اور رپورٹ کی بنیاد پر مناسب کارروائی کریں۔
اس فیصلے سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ محمد دانش کو انصاف ملے گا اور تعلیم حاصل کرنے کا اس کا حق محفوظ رہے گا۔

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।






































































































Leave a Reply