جالنا اسپتال میں سنگین غفلت: حاملہ خاتون کے پیٹ پر ایسڈ لگا دیا گیا، خاتون شدید جھلس گئی
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون کا نام شیلا سندیپ بھالیراؤ ہے، جن کی عمر 28 سال ہے اور وہ تعلقہ بھوکردن کے گاؤں “کھاپرکھیڑا” کی رہائشی ہیں۔ جمعہ کی صبح تقریباً 6 بجے وہ نارمل ڈلیوری کے لیے اسپتال میں داخل ہوئیں۔ ڈلیوری سے قبل بچے کی دھڑکن چیک کرنے کے لیے ڈوپلر مشین استعمال کی جا رہی تھی، جس کے لیے عام طور پر پیٹ پر مخصوص جیل لگایا جاتا ہے۔ لیکن نرس نے لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیل کی جگہ ایسڈ جیسا کیمیکل لگا دیا، جس کے نتیجے میں خاتون کو شدید جلن محسوس ہوئی اور جلد بری طرح جھلس گئی۔
چند لمحوں بعد خاتون نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا، جو مکمل طور پر محفوظ ہے۔ تاہم، خود ماں کی حالت تشویشناک بنی ہوئی ہے اور اس کا علاج فی الحال اسی اسپتال میں جاری ہے۔ ایسڈ کی وجہ سے پیٹ اور اطراف کے حصوں میں گہرے زخم اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ڈاکٹر کا بیان: “لگایا گیا مواد شاید فینائل تھا”
اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے ضلع سرجن ڈاکٹر راجندر پاٹل نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق جس مواد کا استعمال ہوا وہ ممکنہ طور پر فینائل ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، “متاثرہ خاتون کا علاج جاری ہے اور ہم نے واقعے کی مکمل جانچ کے احکامات دے دیے ہیں۔ اصل حقیقت جانچ کے بعد ہی سامنے آئے گی اور اسی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔”
اہل خانہ کا الزام: نرس موقع سے فرار
متاثرہ خاتون کے اہل خانہ نے نرس پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب خاتون نے جلن اور تکلیف کی شکایت کی تو نرس نہ صرف بحث کرنے لگی بلکہ کچھ ہی دیر میں اسپتال سے فرار ہو گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری مداخلت نہ کی جاتی تو معاملہ اور بھی سنگین ہو سکتا تھا۔
عوام میں غصہ، اسپتال پر سوال
اس واقعے کے بعد مقامی شہریوں اور مریضوں میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ لوگوں نے اسپتال انتظامیہ پر غفلت، غیر تربیت یافتہ اسٹاف اور غیرذمہ دار رویے کا الزام لگاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ واقعہ نہ صرف صحت کے نظام کی بدحالی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ عام شہریوں کی جان کو لاحق خطرے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।







































































































Leave a Reply