کرناٹک کے چیف الیکشن آفیسر نے راہول گاندھی کو نوٹس بھیجا، ‘ووٹ چوری’ کے الزامات کے ثبوت مانگے
کانگریس کے ‘ووٹ چوری’ مہم کو لے کر الیکشن کمیشن کا سخت ردعمل، انتخابی عمل کی شفافیت پر بحث بڑھ گئی
نئی دہلی: ملک کی سیاست میں ایک بار پھر انتخابی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کی جانب سے شروع کی گئی ‘ووٹ چوری’ مہم کے بعد کرناٹک کے چیف الیکشن آفیسر نے انہیں نوٹس جاری کیا ہے۔ اس نوٹس میں راہول گاندھی سے الیکشن کمیشن پر لگائے گئے ‘ووٹ چوری’ کے سنجیدہ الزامات کے ثبوت اور دستاویزات فراہم کرنے کو کہا گیا ہے۔ یہ نوٹس الیکشن کمیشن کی جانب سے ان الزامات کی تحقیقات اور تصدیق کا حصہ ہے۔
‘ووٹ چوری’ مہم کی شروعات اور الزامات
راہول گاندھی نے 10 اگست 2025 کو ‘ووٹ چوری’ کے نام سے ایک مہم شروع کی جس میں انہوں نے انتخابی فہرست میں بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی، جعلی ووٹرز کے اندراج، اور انتخابی عمل میں شفافیت کی کمی جیسے الزامات عائد کیے۔ خاص طور پر کرناٹک کے بنگلور سینٹرل کے مہادیوورپورہ اسمبلی حلقے میں تقریباً ایک لاکھ جعلی ووٹرز کے اندراج کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ راہول گاندھی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی فہرست کو ڈیجیٹل اور مشین ریڈیبل فارم میں جاری کرے تاکہ شفافیت اور آزادانہ جانچ کو یقینی بنایا جا سکے۔
عوامی شمولیت کا موقع
اس مہم میں عام لوگوں کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ لوگ ویب سائٹ votechori.in پر جا کر اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں اور 9650003420 پر مس کال دے کر اس تحریک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ مہم میں شامل افراد کو شرکت کا سرٹیفیکیٹ بھی دیا جاتا ہے۔
کرناٹک چیف الیکشن آفیسر کا نوٹس
کرناٹک کے چیف الیکشن آفیسر نے راہول گاندھی کو نوٹس میں کہا ہے کہ وہ اپنے الزامات کے حق میں ٹھوس ثبوت اور دستاویزات فراہم کریں۔ یہ اقدام انتخابی عمل کی شفافیت اور غیرجانبداری کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جو بتاتا ہے کہ الیکشن کمیشن الزامات کی سنجیدگی سے جانچ کر رہا ہے۔
سیاسی ردعمل اور اثرات
جمہوریت اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات
‘ووٹ چوری’ جیسے الزامات جمہوریت کے بنیادی ستونوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ الیکشن کمیشن پر ایسے الزامات کا اثر انتخابی نظام کی ساکھ پر پڑ سکتا ہے۔ اس تنازع نے ملک میں انتخابی عمل کی شفافیت، ووٹر فہرست کی درستگی، اور الیکشن کمیشن کے کردار پر بحث کو تیز کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل ووٹر لسٹ کی مانگ تکنیکی اصلاحات کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو شناخت کی مضبوطی اور انتخابی عمل کی معتبرتا میں مددگار ہو سکتا ہے۔
آئندہ ممکنہ کارروائی
اب راہول گاندھی کو اپنے الزامات کے حق میں ضروری ثبوت اور دستاویزات فراہم کرنا ہوں گے، جس کے بعد الیکشن کمیشن اس کی جانچ کرے گا اور مناسب کارروائی کرے گا۔ سیاسی جماعتیں، میڈیا اور عوام اس پورے معاملے پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
یہ معاملہ آنے والے دنوں میں نہ صرف الیکشن کمیشن کے لئے بلکہ پورے ملک کے جمہوری عمل کے لیے اہم ثابت ہوگا۔
Main Points in English
- Karnataka Chief Election Officer has issued a notice to Rahul Gandhi seeking proof and documents supporting his ‘vote chori’ (vote theft) allegations.
- Rahul Gandhi launched the ‘Vote Chori’ campaign on August 10, 2025, alleging large-scale voter fraud and irregularities in the electoral rolls.
- The campaign demands the release of digital, machine-readable voter lists to ensure transparency and allow independent audits.
- Public participation is encouraged via the website votechori.in and missed calls to 9650003420.
- The notice indicates the Election Commission is taking the allegations seriously and requires concrete evidence for verification.
- The issue has sparked significant political debate and raised questions about the transparency and credibility of the electoral process in India.

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।







































































































Leave a Reply