قریشی سماج پر مظالم کے خلاف احتجاج، گورکشا کے نام پر ہو رہی غیر قانونی کارروائیوں پر روک لگانے کا مطالبہ
جالنا: گورکشا (گاؤ رکھشا) کے نام پر قریشی سماج کے افراد پر ہو رہے حملوں اور غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف آج قریشی سماج نے ضلع کلکٹر آفس میں یادداشت پیش کر کے اپنا احتجاج درج کروایا۔
یہ یادداشت آل انڈیا جمعیت القریش تنظیم کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ غیر سماجی عناصر کی کارروائیوں پر فوری پابندی لگائی جائے جو گورکشا کے نام پر مظالم کر رہے ہیں۔
❗ سخت قوانین کا غلط استعمال
وفد نے الزام لگایا کہ قریشی سماج کے کاروباریوں، کسانوں اور مویشی پالنے والوں پر جھوٹے مقدمے درج کیے جا رہے ہیں اور ان پر تڑی پار، MPDA، MCOCA جیسے سخت قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔
🚫 انتہا پسند تنظیموں پر پابندی کا مطالبہ
یادداشت میں بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد جیسی تنظیموں پر پابندی کی مانگ کی گئی جو لوگوں کو دھمکا رہی ہیں اور تشدد میں ملوث بتائی جا رہی ہیں۔
📋 دیگر اہم مطالبات
- مویشی تاجروں کو قانونی ٹرانسپورٹ لائسنس جاری کیے جائیں۔
- 2015 کا گاؤ ونس ہتیا قانون منسوخ کیا جائے۔
- ضبط شدہ جانوروں کی غیر جانبدار تحقیق کر کے انہیں مالکان کو واپس کیا جائے۔
- سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق سلاٹر ہاؤس ضلع و تحصیل سطح پر قائم کیے جائیں۔
- P.E.L. 21/2024 کے مطابق پالیسی مرتب کی جائے کہ ناکارہ اور بوڑھے جانوروں کا ذبیحہ ممکن ہو۔
👥 نمائندہ افراد
احتجاج میں شامل اہم افراد میں اسلم محمود قریشی (ضلع صدر)، غفار قریشی، خالد قریشی، عبدالمجید قریشی، سرفراز قریشی، مجمل قریشی، باسط قریشی، احمد نور سر سمیت دیگر ارکان بڑی تعداد میں موجود تھے۔
سماج کی طرف سے امید ظاہر کی گئی کہ گورکشا قانون کے غلط استعمال کو روکا جائے گا اور قریشی سماج کو مکمل انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।
























































Leave a Reply