विज्ञापन

ایران کا بڑا حملہ: اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج تباہ، جوابی کارروائی میں ایٹمی تنصیبات نشانے پر

n6690899651750326507853319ed5a5b3ac02a0e7ffafbdc5973f07091a4793c91f8765ce175925ee64d4d6

ایران کا بڑا حملہ: اسرائیلی اسٹاک ایکسچینج تباہ، جوابی کارروائی میں ایٹمی تنصیبات کو نشانہ

✍ رپورٹ: نیوز نیشن آن لائن | 📅 19 جون 2025


مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آچکا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب انتہائی خطرناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ 19 جون 2025 کو ایران نے اسرائیل کے شہر تل ابیب پر 25 سے زائد میزائل داغے، جن میں سے ایک میزائل نے براہِ راست تل ابیب اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کو نشانہ بنایا۔

اسٹاک ایکسچینج پر براہِ راست حملہ — اسرائیلی معیشت کو شدید دھچکا

یہ حملہ اسرائیل کی معیشت پر براہِ راست وار کے مترادف ہے۔ تل ابیب اسٹاک ایکسچینج اسرائیل کی سب سے اہم اقتصادی عمارت ہے۔ حملے کے بعد عمارت سے دھواں نکلتا دیکھا گیا، جبکہ متعدد حصے مکمل طور پر تباہ ہو چکے تھے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، شہر میں افرا تفری کا ماحول ہے۔ سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے۔ ایک ماہ کے دوران 3.24٪ اضافہ دیکھنے والی مارکیٹ پر اس حملے کے بعد شدید مندی چھا گئی۔

“ایسا لگا جیسے آسمان سے آگ برس رہی ہو، ہر طرف دھماکوں کی آوازیں اور چیخ و پکار گونج رہی تھی۔” — عینی شاہد

اسپتال بھی نشانے پر — متعدد افراد زخمی

ایرانی میزائلوں نے صرف اقتصادی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ ایک معروف اسپتال کو بھی نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔ علاقہ خوف اور سراسیمگی کا شکار ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

ایک مقامی شہری کے مطابق، “اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا، اور ہر طرف گرد و غبار اور چیخ و پکار گونجنے لگی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لیے دوڑ رہے تھے۔”

ایران کا مقصد — ایٹمی تناؤ کی انتہا؟

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ حملے ایران کی جانب سے اسرائیل کو واضح پیغام ہیں، خصوصاً ایران کے ایٹمی پروگرام پر ہونے والے دباؤ کے تناظر میں۔ ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت اور جارحانہ حکمت عملی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسرائیل کا جوابی وار — ایٹمی تنصیبات کو نشانہ

رائٹرز کے مطابق، اسرائیل نے جوابی کارروائی میں ایران کے کئی فوجی اڈوں اور ایٹمی ریسرچ مراکز کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں ایران کے دو سینئر فوجی کمانڈر ہلاک جبکہ درجنوں اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں سے ایران کی دفاعی صلاحیت کمزور ہوئی ہے۔

بین الاقوامی ردِ عمل — اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتوں کی اپیل

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے دونوں فریقوں سے تحمل کی اپیل کی ہے، جبکہ روس اور چین نے اسرائیل کی جوابی کارروائی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا، “ہم مشرق وسطیٰ میں امن و امان کے لیے فوری سفارتی حل چاہتے ہیں۔ فوجی کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں۔”

ریڈ الرٹ جاری، شہری پناہ گاہوں میں منتقل

اسرائیل کے تمام بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شہریوں کو ایمرجنسی بنکروں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ تل ابیب، حیفہ، اور یروشلم میں کسی بھی وقت مزید حملے متوقع ہیں۔

دوسری جانب ایران میں بھی فوج کو مکمل الرٹ پر رکھا گیا ہے اور تہران میں فوجی نقل و حرکت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کیا یہ تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہے؟

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی یوں ہی جاری رہی تو نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی اسٹاک مارکیٹ کی گراوٹ اور معاشی بحران کے خطرات پیدا ہو چکے ہیں۔

نتیجہ:

ایران اور اسرائیل کی حالیہ لڑائی بین الاقوامی امن کے لیے ایک خطرہ بن چکی ہے۔ جہاں ایک طرف میزائل برس رہے ہیں، وہیں عام شہریوں کی جانیں اور عالمی معیشت دونوں ہی خطرے میں ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ فوری اقدامات کرے تاکہ یہ تنازعہ کسی بڑے عالمی المیے میں نہ بدل جائے۔

📌 ذرائع: الجزیرہ | رائٹرز | نیوز نیشن آن لائن رپورٹس

📢 مزید خبریں: www.newsnationonline.com

n6690845561750325721227fd370f5c9838a9564152c48f16e850f9003319afbf8495073128ffb8fa20eb6c-2

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें

नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।

author avatar
इमरान सिद्दीकी

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading