ایران کا زبردست انتقامی حملہ: “ٹرو پرومس III” آپریشن سے اسرائیل لرز اٹھا
تہران/تل ابیب، 14 جون 2025: اسرائیل کی جانب سے ایرانی اعلیٰ فوجی افسران اور جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد، ایران نے جمعہ کی صبح ایک زوردار جوابی حملہ کرتے ہوئے “ٹرو پرومس III” آپریشن کے تحت اسرائیلی شہروں پر درجنوں بیلسٹک میزائل داغے۔
تل ابیب میں تباہی کی تصویر
تل ابیب میں ایک 50 منزلہ عمارت پر میزائل لگنے سے زوردار دھماکہ ہوا، جس کے بعد دھواں اور آگ ہر طرف پھیل گئی۔ اسرائیلی میڈیا نے تباہی کو “تاریخی” اور “ناقابلِ بیان” قرار دیا۔
رماٹ گان میں کم از کم نو عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ یاڤا اور دان تل ابیب میں بھی ہنگامی ٹیموں نے محصور لوگوں کو بچانے کے لیے کارروائیاں کیں۔
ایرانی میزائل، اسرائیلی دفاع پر بھاری
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ ایرانی میزائل اسرائیلی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اہداف تک پہنچے۔ IRGC کی ایئرو اسپیس ڈویژن نے آپریشن میں درجنوں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
شہداء کی فہرست اور عالمی ردعمل
ایرانی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی حملوں میں ایران کے کئی اعلیٰ افسران شہید ہوئے:
- میجر جنرل محمد باقری
- میجر جنرل حسین سلامی
- بریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادہ
- جوہری سائنسدان: ڈاکٹر طہرنچی، ڈاکٹر عباسی، ڈاکٹر منوچر
ان کے علاوہ 70 سے زائد عام شہری بھی شہید ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
رہبر انقلاب کا قومی خطاب
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے خطاب میں کہا:
یہ آپریشن عید غدیر کے موقع پر “یا علی ابن ابی طالب” کے کوڈ نیم سے انجام دیا گیا۔
اسرائیل میں سنسر شپ، عوام کو الرٹ
اسرائیلی وزیراعظم نے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس بلایا۔ شہروں میں سائرن بج اٹھے اور شہریوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی۔ میڈیا پر سخت سنسر شپ نافذ کر دی گئی۔
صورتحال کشیدہ، جنگ کے بادل
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ آپریشن جاری رہے گا جب تک شہداء کا انصاف مکمل نہ ہو۔ دونوں اطراف میں کشیدگی شدید ہے اور اگلے دنوں میں مزید تصادم کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।







































































































Leave a Reply