وقف ترمیمی بل پر سیکولرزم کا نقاب اُتر گیا:
نتیش، نائیڈو، اجیت اور چراغ نے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑ دیا
نئی دہلی | 3 اپریل 2025
ہندوستان میں وقف جائیدادیں صرف مذہبی ورثہ نہیں بلکہ مسلم معاشرے کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی کی بنیاد ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں میں مرکزی حکومت کی طرف سے پیش کردہ وقف ترمیمی بل نے اس بنیاد کو کمزور کرنے کی کوشش کی ہے۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وہ رہنما، جنہیں مسلمان ہمیشہ اپنا ہمدرد اور سیکولر سمجھتے آئے ہیں—جیسے نتیش کمار، چندرابابو نائیڈو، اجیت پوار اور چراغ پاسوان—انہوں نے اس متنازعہ بل کی حمایت کر کے مسلم برادری کو سخت مایوس کیا ہے۔
اس ترمیمی بل کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ کسی بھی وقف جائیداد کو “غیر وقف” قرار دے کر اپنے کنٹرول میں لے سکے۔ یہ فیصلہ براہ راست مساجد، مدارس، درگاہوں، قبرستانوں، یتیم خانوں اور دیگر فلاحی و مذہبی اداروں کے وجود کو خطرے میں ڈالنے والا ہے۔
نتیش کمار، جنہوں نے برسوں تک سیکولرزم اور مسلمانوں کی حمایت کی سیاست کی، اس بل کی حمایت کر کے انہوں نے یہ ظاہر کر دیا کہ سیاسی مفادات ان کے لیے مسلمانوں کے حقوق سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
اسی طرح چندرابابو نائیڈو، جو ماضی میں بی جے پی کے شدید مخالف سمجھے جاتے تھے، آج وہی بی جے پی کی پالیسیوں کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔
مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار، جن کی سیاست کافی حد تک مسلم ووٹ بینک پر منحصر رہی ہے، انہوں نے بھی اس بل کے حق میں ووٹ دے کر مسلمانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
اور چراغ پاسوان، جو خود کو اقلیتوں اور دلتوں کا مسیحا کہتے ہیں، انہوں نے بھی اس بل کی حمایت کر کے اپنی اصل ترجیحات کو بے نقاب کر دیا ہے۔
مسلم معاشرے کے لیے یہ بل صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وجودی بحران بن چکا ہے۔ وقف جائیدادوں کا تحفظ صرف عمارتوں کا تحفظ نہیں بلکہ پورے مسلم معاشرے کی مذہبی شناخت، سماجی استحکام اور تعلیمی ترقی کا تحفظ ہے۔
اگر آج وقف جائیدادوں کے خلاف اس فیصلے کے خلاف آواز نہ اُٹھائی گئی، تو کل کی خاموشی مسلم سماج کو بہت بڑی قیمت چکانے پر مجبور کر سکتی ہے۔
✍️ رضوی سلیم شہزاد، مالیگاؤں
🗓️ اشاعت کی تاریخ: جمعرات، 3 اپریل، 2025

Discover more from Nayi Soch News-e-Hub
Subscribe to get the latest posts sent to your email.























































Leave a Reply