جالنا میں قبرستان کے قریب گائے کا گوشت اور سر برآمد، بجرنگ دل کا احتجاج — شہر میں کشیدگی
جالنا، 9 جون: مہاراشٹر کے جالنا شہر میں اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب پیر کی دوپہر راجہ باغ شیر سوار قبرستان کے سامنے واقع ایک گڑھے سے مبینہ گائے کا گوشت اور سر برآمد ہوا۔ یہ گڑھا جالنا میونسپل کارپوریشن کی جانب سے قربانی کے فضلے کی نکاسی کے لیے تیار کیا گیا تھا، لیکن وہاں گائے کے اجزاء کی موجودگی نے معاملے کو حساس بنا دیا۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی چندن جھرا اور قدیم جالنا پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور قانونی ضوابط کے تحت پنچنامہ کیا۔ مشتبہ گوشت کے نمونے جانچ کے لیے لیبارٹری روانہ کیے گئے ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ یہ گوشت کس جانور کا ہے۔ قدیم پولیس تھانے میں اس معاملے پر ایف آئی آر درج کرنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔
ادھر اس واقعے پر بجرنگ دل اور گورکشک دل نے شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اس کو انتظامیہ کی سنگین لاپرواہی قرار دیا۔ تنظیموں نے شہر کے بس اسٹینڈ علاقے میں مرکزی سڑک پر ‘راستہ روکو’ احتجاج کرتے ہوئے کئی گھنٹوں تک ٹریفک کو روک دیا، جس کے باعث عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگرچہ مہاراشٹر میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے، مگر انتظامیہ کی غفلت کے باعث کھلے عام گؤکشی اور اسمگلنگ ہو رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قانون صرف کاغذی ہے اور اس پر عمل درآمد میں سنجیدہ کوتاہیاں کی جا رہی ہیں۔ بجرنگ دل نے انتباہ دیا ہے کہ اگر فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو احتجاج کو مزید وسعت دی جائے گی۔
انتظامیہ نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوراً گڑھے کو بند کرانے اور صفائی کا عمل شروع کرا دیا ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے عوام سے امن و امان قائم رکھنے کی اپیل کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کو ہرگز بخشا نہیں جائے گا۔
یہ واقعہ جالنا میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے، اور فی الحال پولیس اور تحقیقاتی ایجنسیاں پوری مستعدی سے صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।







































































































Leave a Reply