विज्ञापन

لاس اینجلس میں ٹرمپ کی نیشنل گارڈ تعیناتی پر ہنگامے، خودکار گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی

images286829
لاس اینجلس میں شدید ہنگامے: ٹرمپ کی نیشنل گارڈ تعیناتی کے بعد سڑکوں پر آگ

لاس اینجلس میں شدید ہنگامے: ٹرمپ کی نیشنل گارڈ تعیناتی کے بعد سڑکوں پر آگ

لاس اینجلس، 9 جون 2025: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے گورنر کی منظوری کے بغیر لاس اینجلس میں نیشنل گارڈ کی غیرمعمولی تعیناتی کے بعد اتوار کے روز شہر میں زبردست کشیدگی پھیل گئی۔ یہ فیصلہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی حالیہ چھاپہ مار کارروائیوں کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے لیا گیا تھا، مگر اس کے برعکس عوام کا غصہ شدت اختیار کر گیا اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

مظاہرین نے I‑101 مرکزی شاہراہ کو کئی گھنٹوں کے لیے بند کر دیا، جبکہ خودکار چلنے والی Waymo کمپنی کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ حالات بے قابو ہونے پر لاس اینجلس پولیس (LAPD) اور نیشنل گارڈ نے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں، اسپنج راؤنڈز اور فلیش بم استعمال کیے تاکہ بھیڑ کو منتشر کیا جا سکے۔

اہم نکات:

  • تقریباً 300 نیشنل گارڈز وفاقی عمارتوں کی حفاظت پر تعینات کیے گئے۔
  • متعدد صحافی زخمی، ایک کی آنکھ میں شدید چوٹ۔
  • گورنر گیون نیوزم نے اقدام کو “غیرآئینی” قرار دے کر عدالت سے رجوع کیا۔
  • میئر کیرن باس نے فوجی موجودگی پر خدشات ظاہر کیے۔
  • صدر ٹرمپ نے مظاہرین کو “ملک دشمن” قرار دیا۔

یہ احتجاج لاس اینجلس سے بڑھ کر سان فرانسسکو سمیت دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے جہاں بھی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ لاس اینجلس میں 100 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ ICE نے پچھلے ہفتے میں 118 تارکین وطن کو حراست میں لیا۔

سیاسی ردعمل اور آئندہ کا منظرنامہ

یہ اقدام امریکہ میں وفاقی اور ریاستی اختیارات کے درمیان تصادم کو مزید بڑھا رہا ہے۔ کیلیفورنیا کی حکومت نے اس کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

مظاہرین نے واضح کیا ہے کہ جب تک ICE چھاپے بند نہیں کیے جاتے اور نیشنل گارڈ واپس نہیں بلایا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔ شہر بھر میں ہائی الرٹ ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

مزید تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔

images-69

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें

नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।

author avatar
इमरान सिद्दीकी

Nayi Soch News-e-Hub से और जानें

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading