Advertisement

“ایران-اسرائیل جنگ میں زبردست موڑ: چین و روس کی کھلی حمایت، امریکہ کو سخت وارننگ!”

n6691351631750360150061b7cca8f669d229d93b26551b53361c2dbc69ee828f1de1bfb91a880bf9aac7f4-1
ایران اسرائیل جنگ میں نیا موڑ: چین اور روس کی حمایت، امریکہ کو وارننگ

ایران اسرائیل جنگ میں نیا موڑ: چین اور روس کی حمایت، امریکہ کو وارننگ

تازہ ترین موڑ: روس اور چین نے ایران کی کھلی حمایت کی، اسرائیل کی مذمت کی، اور امریکہ کو سخت پیغام دیا۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ۔

مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے، جہاں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے ایک نیا بین الاقوامی رخ اختیار کر لیا ہے۔ اب تک جہاں اسرائیل مسلسل حملہ آور رہا، وہیں حالیہ پیش رفت میں **چین اور روس نے ایران کی کھلی حمایت کر کے عالمی توازن کو ہلا دیا ہے۔**

اس موڑ کے بعد نہ صرف اس خطے میں امن کی امیدیں کمزور ہو گئی ہیں، بلکہ امریکہ کی حکمت عملی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ جمعرات کو ہونے والی روسی صدر ولادیمیر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کی فون کال نے یہ واضح کر دیا کہ دونوں ممالک اب کھل کر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پوتن-شی جن پنگ کی اہم گفتگو

جمعرات کو فون پر ہونے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دونوں ممالک نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی خودمختار ریاست پر فوجی طاقت کا استعمال کرے۔

پوتن اور شی جن پنگ نے یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے اور کسی بھی فوجی کارروائی سے دنیا بھر میں سنگین نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کو سخت پیغام

اس گفتگو میں امریکہ کو بھی سخت وارننگ دی گئی کہ وہ اپنی پالیسی کو متوازن رکھے اور مشرق وسطیٰ میں کسی ایک فریق کو اندھی حمایت دینا بند کرے۔ چین اور روس نے اسرائیل کو دی جانے والی امریکی فوجی امداد پر سوالات اٹھائے۔

خاص طور پر چین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ذریعے ہی کسی بھی علاقائی تنازعے کا حل نکالا جانا چاہیے، نہ کہ فوجی طاقت کے ذریعے۔

جنگ نہیں، مذاکرات کا راستہ

پوتن اور شی جن پنگ نے واضح کیا کہ ایران-اسرائیل تنازعے کا حل **جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری** ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام، جس پر امریکہ اور اسرائیل بار بار تشویش ظاہر کرتے ہیں، اس کا حل صرف بات چیت سے نکل سکتا ہے۔

پوتن نے کہا کہ جنگ صرف تباہی لاتی ہے، اور اگر یہ آگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل گئی تو اس کے سنگین نتائج پوری انسانیت کو بھگتنے پڑ سکتے ہیں۔

چین نے روس کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا

چینی صدر شی جن پنگ نے روس کی جانب سے اس خطے میں ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ یہ امن کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام ممالک مل کر کوشش کریں تو مشرق وسطیٰ میں استحکام واپس آ سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا پراسرار بیان

اس تمام تر پیش رفت کے درمیان امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی ایک دلچسپ بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اگلے ہفتے کچھ بڑا ہونے والا ہے۔” ان کے اس بیان کو ایران کے خلاف ایک وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران پہلے مذاکرات کے لیے تیار تھا اور وائٹ ہاؤس آنے کو بھی تیار تھا، لیکن اب شاید بہت دیر ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا، “اب وقت گزر چکا ہے۔ جو کرنا تھا وہ پہلے کرنا چاہیے تھا۔ اب امریکہ کوئی رعایت نہیں دے گا۔”

کیا تیسری عالمی جنگ قریب ہے؟

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت تیسری عالمی جنگ کی ایک ابتدائی گھنٹی ہو سکتی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل ہیں، تو دوسری طرف روس، چین اور ایران کا نیا اتحاد بنتا نظر آ رہا ہے۔ اگر یہ تنازعہ سفارت کاری سے حل نہ ہوا تو اس کے نتائج دنیا بھر کے لیے خطرناک ہوں گے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتا انسانی بحران

اس جنگ کے باعث شام، لبنان، غزہ، یمن اور عراق جیسے ممالک پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔ ہزاروں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسکول، اسپتال، مساجد اور بازار تباہ ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ جلد نہیں رکی، تو انسانیت کو سب سے بڑا بحران درپیش ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کردار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ابھی بھی وقت ہے کہ دنیا تباہی سے بچ جائے۔ ہمیں ہتھیار نہیں، بلکہ دل کی طاقت چاہیے۔”

نتیجہ: آنے والے دن فیصلہ کن ہوں گے

ایران اور اسرائیل کے درمیان یہ تصادم اب صرف دو ممالک کی لڑائی نہیں رہا۔ اس میں دنیا کی بڑی طاقتیں براہ راست شامل ہو چکی ہیں۔ اگر اسے فوراً نہ روکا گیا، تو یہ تنازعہ عالمی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

کیا چین اور روس کی حمایت ایران کو مزید مضبوط کرے گی؟ کیا امریکہ اور اسرائیل اس کا جواب دیں گے؟ یا پھر عالمی قیادت اس جنگ کو روکنے میں کامیاب ہو گی؟ اس کا فیصلہ آنے والے ہفتوں میں ہو گا۔

نوٹ: اس مضمون کا مقصد قارئین کو حالیہ عالمی حالات سے مکمل اور گہری آگاہی دینا ہے۔ اس میں دی گئی معلومات مختلف رپورٹس اور عالمی میڈیا سے اخذ کی گئی ہیں۔
n6691351631750360150061b7cca8f669d229d93b26551b53361c2dbc69ee828f1de1bfb91a880bf9aac7f4

Discover more from Nayi Soch News-e-Hub

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

author avatar
Imran Siddiqui

Discover more from Nayi Soch News-e-Hub

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading