Advertisement

دماغ میں جذبات کی پہلی جھلک کا راز — اسٹینفورڈ کی تاریخی تحقیق

file_00000000ca1861f9915c61f6820c2a52
دماغ میں جذبات کی پہلی جھلک کا راز بے نقاب — اسٹینفورڈ کے سائنسدانوں کی بڑی دریافت
خبر • سائنس
11 اگست 2025 · اسٹینفورڈ / کیلیفورنیا
ماخذ: جریدہ Science / اسٹینفورڈ میڈیسن

دماغ میں جذبات کی پہلی جھلک کا راز بے نقاب — اسٹینفورڈ کے سائنسدانوں کی بڑی دریافت

بینر: دماغ اور جذباتی سرگرمی کے دو مرحلے
اسٹینفورڈ کے مطالعے کا تصور: ابتدائی تیز \’براڈکاسٹ\’ اور بعد میں آنے والا پائیدار یکجائی مرحلہ۔

اسٹینفورڈ میڈیسن کے محققین نے پہلی بار حقیقی وقت میں ریکارڈنگ کے ذریعے دکھایا ہے کہ جذبات دماغ میں کس طرح ابھرتے ہیں۔ ان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جذبات کے آغاز میں دماغ کی سرگرمی ایک واضح دو مرحلوں پر مشتمل ہوتی ہے: پہلے مرحلے میں ایک فوری عالمی سگنل پھیلتا ہے اور دوسرے مرحلے میں ایک سست مگر پائیدار سرگرمی جذبات کو مستحکم کرتی ہے۔

تحقیق کا طریقہ کار

محققین نے انسانوں اور چوہوں میں انٹراکریانیئل الیکٹروفزیولوجی کے ذریعے نیورل سگنلز کو ریکارڈ کیا۔ شرکاء کو ہلکی اور اچانک محرکات دیے گئے (مثلاً آنکھ کے پاس ہوا کا جھونکا) تاکہ قدرتی جذباتی اور جسمانی جوابات حاصل کیے جا سکیں اور ان کے دماغی ریکارڈ کا تجزیہ کیا جا سکے۔

اہم دریافتیں

  • دو مرحلوں کا نمونہ: ابتدائی “فاسٹ براڈکاسٹ” جو دماغ کے کئی حصوں میں فوراً پھیلتا ہے؛ اس کے بعد “پرسسٹنٹ/انٹیگریٹو” مرحلہ جو چند سیکنڈ تک جاری رہتا ہے اور جذباتی تجربے کو یکجا کرتا ہے۔
  • جانوروں اور انسانوں میں مشابہت: یہی بائی فیز پیٹرن چوہوں میں بھی دیکھا گیا — اس کا مطلب ہے کہ یہ نظام ممالیہ میں ارتقائی طور پر محفوظ ہو سکتا ہے۔
  • کیٹامین کا اثر: کم خوراک کیٹامین نے دوسرے (پائیدار) مرحلے کی مدت کو کم کیا؛ نتیجتاً جذباتی ردعمل کم ہو گیا جبکہ فوری ریفلیکس برقرار رہے۔

علمی اور طبی اہمیت

یہ نتائج جذبات کو صرف محدود دماغی مراکز کے اظہار کے طور پر دیکھنے کے تصور کو بدل دیتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جذبات پورے دماغ میں پھیلے ہوئے مربوط نیٹ ورک کی متحرک ترتیب کا نتیجہ ہیں — اور ان کی مدت (خصوصاً پائیدار مرحلہ) تجربے کی شدت اور دورانیے کا تعین کرتی ہے۔ طبی نقطۂ نظر سے یہی بات PTSD، ڈپریشن یا OCD جیسے امراض کے علاج میں نئی حکمت عملیوں کی راہ دکھاتی ہے۔

“ہم نے پہلی بار پورے دماغ کی اس سرگمی کو ریکارڈ کیا ہے جو کسی جذبے کے آغاز پر ہوتی ہے۔ یہ دریافت نہ صرف بنیادی سائنس کے لیے اہم ہے بلکہ نفسیاتی امراض کے ہدفی علاج کی راہیں بھی کھولتی ہے.” — اسٹڈی ٹیم

حدود اور آئندہ تحقیق کے سوالات

موجودہ مطالعہ مختصر اور کنٹرولڈ محرکات کے جواب میں بنایا گیا۔ حقیقی دنیا کی پیچیدہ سماجی یا طویل مدتی جذباتی کیفیتوں میں یہی طریقہ کار کس طرح کام کرتا ہے، اور کیٹامین جیسے ایجنٹس کے طویل مدتی اثرات و اخلاقی مضمرات کیا ہوں گے — یہ مزید تحقیق کا موضوع ہیں۔

Main Points (English)

  • Stanford researchers mapped brain-wide activity at the very first moments an emotion appears.
  • They identified a two-phase pattern: a rapid global “fast broadcast” followed by a slower “persistent integration” phase.
  • The same pattern was observed in both humans and mice, suggesting evolutionary conservation.
  • Low-dose ketamine shortened the persistent phase and reduced emotional responses while leaving reflexes intact.
  • Findings may inform targeted treatments for PTSD, depression, OCD and other disorders of emotional dysregulation.
حوالہ: مطالعہ جریدہ Science میں شائع؛ اسٹینفورڈ میڈیسن کی پریس ریلیز اور PubMed خلاصہ۔
“`0
file_00000000ca1861f9915c61f6820c2a52-1

Discover more from Nayi Soch News-e-Hub

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

author avatar
Imran Siddiqui
Translate »