ایران پر حملہ، امریکہ میں ہنگامہ! ٹرمپ کی جنگی طاقت پر کانگریس کا وار
ایران کے ایٹمی مراکز پر امریکی بمباری کے بعد، ڈیموکریٹس نے ٹرمپ کو گھیر لیا، واربپاورز ایکٹ کی تجویز
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری مراکز پر حملے کے حکم کے چند گھنٹوں بعد، واشنگٹن میں سیاسی طوفان برپا ہو گیا۔ ڈیموکریٹ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے اس فیصلے کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کو اس فیصلے کا جواب عوام اور پارلیمنٹ کو دینا ہوگا۔
امریکی کانگریس میں ہنگامہ
سینیٹ میں ڈیموکریٹ لیڈر چک شومر نے شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا: “کسی صدر کو اکیلے ملک کو جنگ میں دھکیلنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ ٹرمپ کا یہ فیصلہ نہایت خطرناک ہے جس کے باعث امریکہ خود ایران اور اسرائیل کے تنازع میں کود پڑا ہے۔”
بھارتی نژاد کانگریس رکن رو کھنہ نے کانگریس کے تمام اراکین سے فوری طور پر واشنگٹن واپس آ کر واربپاورز ایکٹ پر ووٹنگ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا مقصد ہے کہ صدر کے فوجی اختیارات کو محدود کیا جائے۔
رو کھنہ نے سوشل میڈیا پر لکھا: “یہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے فیصلہ کن لمحہ ہے۔ ہمیں ایران کے خلاف غیرقانونی جنگ کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ آج رات میں ہر رکن پارلیمان کو خط بھیج رہا ہوں اور میری تجویز کی حمایت کی اپیل کر رہا ہوں۔”
واربپاورز ایکٹ کیا ہے؟
وارپاورز ریزولوشن (1973) ایک امریکی قانون ہے جو صدر کی جنگی طاقت کو محدود کرتا ہے۔ یہ قانون ویتنام جنگ کے بعد پاس کیا گیا تھا، جب ہزاروں امریکی فوجی بغیر کانگریس کی اجازت کے بھیج دیے گئے تھے۔
اس قانون کے مطابق اگر صدر امریکی افواج کو بیرون ملک بھیجتے ہیں، تو انہیں 48 گھنٹوں کے اندر کانگریس کو مکمل معلومات دینا ہوتی ہیں، اور اگر منظوری نہ ملے تو 60 دن میں فوج واپس بلانا ضروری ہے۔
ایران پر بمباری کی تفصیلات
اتوار، 22 جون 2025 کو امریکی B-2 بمبار طیاروں نے ایران کے اہم جوہری مراکز — فورڈو، نتانز اور اصفہان — کو نشانہ بنایا۔ یہ مراکز یورینیم افزودگی اور تحقیق کے مرکز سمجھے جاتے ہیں۔
جہاں پینٹاگون نے اس کارروائی کو ضروری قرار دیا، وہیں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے کہا کہ یہ عمل پورے خطے میں طویل المدتی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ سابق اسپیکر نینسی پیلوسی نے کہا:
“صدر نے کانگریس کی اجازت کے بغیر فوجی کارروائی کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ قدم امریکی عوام کو خطرے میں ڈالتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو بڑھا رہا ہے۔”
عالمی ردعمل اور خدشات
دنیا بھر کی نظریں اب اس صورت حال پر لگی ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہنگامی میٹنگ کے ساتھ ساتھ، تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایک ایسے جنگی دلدل میں اتر چکا ہے، جس میں خطے کے دیگر ممالک اور عالمی طاقتیں بھی کھنچ سکتی ہیں۔
نتیجہ
اب یہ دیکھنا ہوگا کہ رو کھنہ کی تجویز کو کانگریس میں کتنی حمایت ملتی ہے۔ کیا ایران پر حملہ ایک اسٹریٹیجک کامیابی ہے یا آئینی خلاف ورزی؟ کیا ٹرمپ کا قدم ایک نئی جنگ چھیڑنے والا ہے؟ آئندہ چند دن امریکی سیاست اور عالمی امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Discover more from Nayi Soch News-e-Hub
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


























































Leave a Reply