Advertisement

صرف رجسٹریشن سے عوامی ٹرسٹ کی حیثیت ختم نہیں ہوتی: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

images-2025-08-06T151548.208-1

صرف رجسٹریشن سے کسی ادارے کی عوامی ٹرسٹ کی حیثیت ختم نہیں ہوتی: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

نئی دہلی، 5 اگست 2025:
بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی ادارہ پہلے ہی سے عوامی فلاح کے مقصد سے کام کر رہا ہو اور اس کی سرگرمیاں، مالی ذرائع اور اہداف ایک عوامی ٹرسٹ کے مانند ہوں، تو صرف سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860 کے تحت رجسٹریشن کروا لینے سے اس کی ٹرسٹ کی نوعیت ختم نہیں ہو جاتی۔

یہ فیصلہ اُن ہزاروں این جی اوز اور سماجی اداروں کے لیے اہم نظیر بنے گا جو بظاہر ایک “سوسائٹی” کی شکل میں کام کر رہے ہیں لیکن درحقیقت عوامی مفاد کے لیے چندہ، سرکاری گرانٹس یا خیراتی عطیات پر منحصر ہوتے ہیں۔

⚖️ کیس کا پس منظر: “آپریشن آشا بمقابلہ ڈاکٹر شلی بترا و دیگر”

یہ تنازعہ “آپریشن آشا” نامی طبی فلاحی ادارے سے وابستہ ہے، جس کی شریک بانی ڈاکٹر شلی بترا کو ادارے سے برخاست کر دیا گیا تھا۔
اس کے بعد انہوں نے ادارے میں مالی بدعنوانی، مقاصد سے انحراف اور شفافیت کی کمی جیسے الزامات کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ میں ایک نمائندہ مقدمہ (Representative Suit) دائر کیا تھا، جو CPC کی دفعہ 92 کے تحت دائر ہوتا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے ان کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے مانا کہ ادارے کی ساخت اور سرگرمیاں ایک “تعمیری عوامی ٹرسٹ” کی مانند ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ادارے کی اصل نوعیت اس کی سرگرمیوں سے طے ہوگی، نہ کہ صرف رجسٹریشن کے کاغذات سے۔

🧾 سپریم کورٹ کی رائے

چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی بینچ نے کہا:

“اگر کوئی ادارہ اپنی سرگرمیوں، مقاصد اور مالی وسائل کے لحاظ سے عوامی فلاح کے لیے کام کر رہا ہو — جیسے تعلیم، صحت، یا سماجی خدمت — تو اسے عوامی ٹرسٹ تصور کیا جائے گا، چاہے وہ قانونی طور پر ایک سوسائٹی کے طور پر رجسٹرڈ ہو۔”

عدالت نے مزید کہا کہ رجسٹریشن صرف ایک رسمی پہلو ہے، اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ ادارہ عملی طور پر کن مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے اور اس کا مالی ڈھانچہ کس پر منحصر ہے۔

⚖️ دفعہ 92 CPC کے تحت نمائندہ مقدمہ قابل سماعت

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ایسے اداروں کے خلاف CPC کی دفعہ 92 کے تحت نمائندہ مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے، تاکہ اگر ادارے میں بدانتظامی، خردبرد یا مقاصد سے انحراف ہو تو عدالت مداخلت کر سکے۔

🔍 فیصلے کے ممکنہ اثرات

  • این جی اوز اور سوسائٹیز کی ذمہ داری میں اضافہ: اب ادارے “سوسائٹی” ہونے کا سہارا لے کر عوامی احتساب سے بچ نہیں سکیں گے۔
  • قانونی نگرانی اور شفافیت میں بہتری: عوامی فلاحی ادارے عدالتوں کی نگرانی میں آ سکیں گے، اگر وہ عوامی فنڈز سے چل رہے ہوں۔
  • اداروں کے ماضی کے کردار کا تجزیہ اہم: صرف موجودہ اسٹیٹس کافی نہیں ہوگا، عدالت ادارے کی ابتدائی سرگرمیوں کو بھی دیکھے گی۔
  • سابق ارکان یا فریقین کو قانونی تحفظ: ادارے سے نکالے گئے افراد یا مفاد رکھنے والے لوگ قانونی چارہ جوئی کے قابل سمجھے جائیں گے۔

🧠 نتیجہ

یہ فیصلہ بھارتی عدالتی نظام میں ایک اہم مثال کے طور پر سامنے آیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ عدالتیں محض رسمی قانونی حیثیت پر نہیں بلکہ اداروں کی اصل سرگرمیوں، اہداف اور عوامی مفاد پر غور کر کے فیصلہ کریں گی۔

اب اگر کوئی ادارہ عوامی مفاد کے لیے فنڈز اکٹھا کر رہا ہے، تو وہ صرف ایک سوسائٹی نہیں بلکہ ایک عوامی ٹرسٹ کے زمرے میں آئے گا — اور اس پر اسی کے مطابق قانونی و اخلاقی ذمہ داریاں لاگو ہوں گی۔

images-2025-08-06T151548.208

Discover more from Nayi Soch News-e-Hub

Subscribe to get the latest posts sent to your email.

author avatar
Imran Siddiqui
Translate »