قریشی برادری کا احتجاج صرف کاروباری نہیں، حق و انصاف کی جدوجہد ہے: مولانا غلام جیلانی مصباحی
جالنہ، یکم اگست:
جالنہ میں قریشی برادری کی جانب سے مویشیوں اور گوشت کے کاروبار پر مبینہ پابندی کے خلاف جاری پرامن احتجاج کو اب مذہبی رہنماؤں کی بھرپور تائید حاصل ہو رہی ہے۔ گلزار مسجد کے پیش امام مولانا غلام جیلانی مصباحی نے اس تحریک کی کھل کر حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج محض کاروبار کے تحفظ کی کوشش نہیں بلکہ حق، روزگار اور انصاف کے لیے کی جانے والی ایک اصولی لڑائی ہے۔
مولانا مصباحی نے کہا، “قریشی برادری گزشتہ کئی دہائیوں سے اس پیشے سے وابستہ ہے۔ آج اُن کے روزگار پر اس طرح قدغن لگانا سراسر زیادتی ہے۔ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ اُن کے بنیادی انسانی حقوق پر حملہ ہے۔”
انہوں نے حکومت کو یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اگر عوام قانون کے دائرے میں رہ کر پرامن احتجاج کر رہے ہیں، تو حکومتی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اُن کی آواز سنے اور مناسب حل پیش کرے۔
مولانا مصباحی نے خبردار کیا کہ “اگر حکومت نے بر وقت اقدامات نہ کیے تو عوام کا صبر جواب دے سکتا ہے اور حالات بگڑنے کا خدشہ ہے۔ تصادم کی نوبت آنے سے پہلے ضروری ہے کہ انصاف پر مبنی فیصلہ لیا جائے۔”
آخر میں انہوں نے تمام مسلم تنظیموں، دینی مدارس اور مذہبی قائدین سے اپیل کی کہ وہ قریشی برادری کی حمایت میں متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ “یہ معاملہ صرف قریشیوں کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ روزگار، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق ہم سب کے مشترکہ مسائل ہیں جن کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔”

Discover more from Nayi Soch News-e-Hub
Subscribe to get the latest posts sent to your email.


























































Leave a Reply