اورحان غازی (دورِ حکومت تقریباً 1323/24 تا 1362) وہ حکمران ہیں جنہوں نے ایک چھوٹی سرحدی امارت کو حقیقی ریاست میں بدلا۔ اس سفر کا فیصلہ کن موڑ اپریل 1326 میں بورسا کی فتح تھی، جو پہلا عثمانی دارالحکومت بنا۔ وہاں سے وہ ازنیق (نیقیہ) کی طرف بڑھے، جہاں 1331 میں پہلا عثمانی مدرسہ قائم ہوا، اور 1354 میں ان کے بیٹے کے ہاتھوں گیلی پولی کی فتح نے عثمانیوں کو یورپ میں پہلا پائیدار ٹھکانا دیا۔ اس مضمون میں یہی کہانی بیان کی گئی ہے، اور جہاں مؤرخین میں اختلاف ہے وہاں اس کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھیں: Orhan Ghazi & Bursa | Entire History of the Ottoman Empire Ep. 2، یوٹیوب چینل روحانی دعا پر۔
مختصر حقائق
| موضوع | ماخذ کیا کہتے ہیں |
|---|---|
| دورِ حکومت | تقریباً 1323/24 سے مارچ 1362 تک |
| والد | عثمان اول (عثمان غازی) |
| بورسا | تقریباً 1317 سے محاصرہ؛ 6 اپریل 1326 کو فتح |
| ازنیق (نیقیہ) | 1328 تا 1331 محاصرہ؛ 2 مارچ 1331 کو شہر فتح ہوا |
| معرکۂ پیلیکانون | جون 1329، بازنطینی شہنشاہ اندرونیکوس سوم کے خلاف |
| گیلی پولی | 1354 میں ان کے بیٹے سلیمان پاشا نے لیا |
| وفات | مارچ 1362، بورسا میں |
اورحان کو ورثے میں کیا ملا
اورحان سلطنت کے بانی عثمان اول کے بیٹے تھے۔ تاریخوں میں ماخذ ایک دوسرے سے مختلف ہیں: بعض کے مطابق ان کی پیدائش تقریباً 1281 میں ہوئی اور تخت نشینی 1323/24 میں، جبکہ بعض ان کی تنہا حکمرانی کا آغاز 1326 میں بورسا کی فتح کے فوراً بعد سے مانتے ہیں۔ ابتدائی عثمانی تاریخ میں یہ مسئلہ عام ہے، کیونکہ قدیم ترین تواریخ واقعات کے کافی بعد لکھی گئیں۔ اسی لیے مؤرخین بہت سی ابتدائی تفصیلات کو احتیاط سے دیکھتے ہیں۔
البتہ پس منظر واضح ہے۔ چودھویں صدی کے آغاز میں اناطولیہ کئی چھوٹی ترک امارتوں (بیلیکوں) میں بٹا ہوا تھا اور بازنطینی سلطنت اندرونی کشمکش سے کمزور تھی۔ عثمان کی چھوٹی امارت بازنطینی سرحد پر تھی، اور محض چھاپہ مار قوت سے آگے بڑھنے کے لیے اسے ایک شہر، ایک نظامِ انتظام اور ایک مستقل فوج کی ضرورت تھی۔
بورسا کا محاصرہ اور فتح (1326)
معروف بیان کے مطابق بورسا کا محاصرہ 1317 سے 6 اپریل 1326 تک جاری رہا، اور عثمانیوں کو شہر فتح کرنے کا تجربہ تھا نہ مناسب محاصراتی سامان، اس لیے شہر چھ یا نو سال بعد گرا (ماخذ میں دونوں عدد ملتے ہیں)۔ ایک اور بیان کے مطابق بورسا نے طویل ناکہ بندی کے بعد بھوک کے خطرے کے تحت ہتھیار ڈالے، یعنی کسی یلغار کے نتیجے میں نہیں گرا۔
محاصرہ عثمان نے شروع کیا مگر وہ اس کا انجام نہ دیکھ سکے، اور اسے اورحان نے مکمل کیا۔ پھر بورسا پہلا باقاعدہ عثمانی دارالحکومت بنا اور 1360 کی دہائی میں دارالحکومت ادرنہ منتقل ہونے تک یہی رہا (ماخذ 1365 یا 1366 بتاتے ہیں)۔ اورحان کو وہاں مساجد، مدارس، حمام اور بازار تعمیر کرانے کا سہرا بھی دیا جاتا ہے، اور انہیں بورسا ہی میں دفن کیا گیا۔
ازنیق، پیلیکانون اور پہلا عثمانی مدرسہ
بورسا مضبوط ہو جانے کے بعد اورحان نے نیقیہ (ازنیق) کا رخ کیا، جو کبھی ایک بڑا شاہی شہر تھا۔ شہنشاہ اندرونیکوس سوم نے علاقے کو بچانے کی کوشش کی اور جون 1329 میں نیکومیڈیا کے قریب پیلیکانون کے مقام پر دونوں فوجیں آمنے سامنے آئیں۔ بازنطینی عثمانی پوزیشن توڑنے میں ناکام رہے اور ازنیق 2 مارچ 1331 کو فتح ہو گیا۔ نیکومیڈیا 1337 میں اس کے بعد فتح ہوا۔
فتح کے جلد بعد اورحان نے ازنیق میں وہ ادارہ قائم کیا جسے پہلا عثمانی مدرسہ قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس کے اخراجات کے لیے وقف (خیراتی اوقاف) مقرر کیے اور داؤد القیصری کو اس کا پہلا استاد بنایا۔ مدرسے میں دینی علوم پڑھائے جاتے تھے، اور اگلی صدی میں بہت سے مزید مدارس قائم ہوئے: ایک تحقیق کے مطابق 1331 سے 1451 کے درمیان 82 مدارس قائم کیے گئے۔ وسیع تر مسلم دنیا کے علماء بھی بڑھتی ہوئی ریاست میں منتظم اور قاضی کے طور پر خدمت کے لیے کھنچ کر آنے لگے۔
سکہ، باقاعدہ فوج اور مستحکم ریاست
روایتی طور پر اورحان کو چاندی کا سکہ آقچہ اپنے نام سے جاری کرنے کا سہرا دیا جاتا ہے، جو عثمانیوں کا بنیادی سکہ تھا۔ یہ تقریباً 1.15 گرام کا چھوٹا چاندی کا سکہ تھا جس پر خالص خطاطی کا نقش تھا۔ ایک احتیاط یاد رکھیں: بعض مؤرخین کے مطابق عثمان کے نام والا سکہ بھی دریافت ہوا ہے، اس لیے “پہلا عثمانی سکہ” کا معاملہ طے شدہ نہیں، اور اس کی تاریخ (جو اکثر 1326/27 بتائی جاتی ہے) بھی زیرِ بحث ہے۔
اورحان کو ایک تنخواہ دار مستقل فوج منظم کرنے کے لیے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے بھائی اور وزیر علاء الدین کو یایا نامی تنخواہ دار پیادہ دستہ بنانے کا کریڈٹ دیا جاتا ہے، جو ہمہ وقت خدمت کے لیے تیار رہتا اور موسمی قبائلی جنگجوؤں کے مقابلے میں طویل محاصرے برداشت کر سکتا تھا۔ بہت سے بیانات اسے مستقل فوج کی طرف ایک بڑا قدم بتاتے ہیں، البتہ ان ابتدائی اصلاحات کی تفصیلات بعد کی تواریخ سے آتی ہیں اور انہیں احتیاط سے پڑھنا چاہیے۔
ایک مسافر نے کیا دیکھا
مراکشی سیاح ابن بطوطہ نے 1330 کی دہائی کے اوائل میں بورسا کا دورہ کیا (ماخذ 1331، 1332 یا 1333 بتاتے ہیں)۔ انہوں نے ایک ایسے شہر کا ذکر کیا جس میں عمدہ بازار، کشادہ گلیاں، اور چاروں طرف باغات اور چشمے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ اورحان دولت، زمین اور فوجی طاقت میں ترکمان بادشاہوں میں سب سے بڑے ہیں۔ چونکہ یہ فتح کے چند ہی سال بعد کی چشم دید رپورٹ ہے، اس لیے نئے دارالحکومت کی جو تصویریں ہمارے پاس ہیں ان میں یہ نسبتاً زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔
یورپ میں پہلا قدم
1354 میں ایک بڑے زلزلے نے گیلی پولی کی دیواروں کو نقصان پہنچایا۔ اورحان کے سب سے بڑے بیٹے سلیمان پاشا نے قصبے پر قبضہ کر لیا اور وہاں ترک خاندان بسائے، جس سے عثمانیوں کو آبنائے کے یورپی کنارے پر ایک پل ہیڈ مل گیا۔ وہاں سے وہ تھریس میں پھیلے۔
سلیمان ان کامیابیوں کے بعد زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے۔ وہ شکار کے ایک حادثے کے بعد وفات پا گئے، اور اکثر ماخذ ان کی وفات تقریباً 1357 بتاتے ہیں، اور وہ کبھی سلطان نہ بنے۔ جب مارچ 1362 میں اورحان کی وفات ہوئی تو ان کے بیٹے مراد اول نے ان کی جگہ سنبھالی۔
آج کے لیے اسباق
- بڑی تبدیلیاں اکثر کئی سالوں میں بنتی ہیں۔ بورسا کو جیتنے میں تقریباً ایک دہائی لگی، اور عثمان اسے گرتا نہ دیکھ سکے۔
- ادارے فتوحات سے زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ مدرسہ، وقف، سکہ اور باقاعدہ فوج کسی بھی معرکے جتنے اہم تھے۔
- تاریخ کو احتیاط سے پڑھیں۔ ابتدائی عثمانی تاریخیں اور قصے ماخذ کے لحاظ سے مختلف ہیں، اور دیانت دار قاری یہ بات صاف کہتا ہے، سب سے ڈرامائی روایت چن نہیں لیتا۔
- علم اور اوقاف نسلوں تک معاشرے کی خدمت کرتے ہیں، اور یہ سبق ہر برادری کے لیے ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اورحان غازی نے بورسا کب فتح کیا؟
بورسا 6 اپریل 1326 کو ایک ایسے محاصرے کے بعد فتح ہوا جو تقریباً 1317 میں شروع ہوا تھا۔ محاصرہ عثمان نے شروع کیا اور اورحان نے اسے مکمل کیا۔
کیا ازنیق کا مدرسہ واقعی پہلا عثمانی مدرسہ تھا؟
اکثر جدید ماخذ یہی کہتے ہیں اور اسے 1331 کا بتاتے ہیں، یعنی ازنیق کی فتح کے جلد بعد۔ اورحان نے اسے اوقاف کے ذریعے مالی سہارا دیا۔
گیلی پولی کس نے فتح کیا؟
اورحان کے بیٹے سلیمان پاشا نے 1354 میں گیلی پولی لیا، جب ایک زلزلے نے اس کے دفاع کو نقصان پہنچایا تھا۔ یہ یورپ میں پہلا پائیدار عثمانی اڈہ بنا۔
مزید پڑھیں:
- الکندی (Alkindus): عربوں کے فلسفی جنہوں نے خفیہ رموز کھولے
- الجزری: وہ انجینئر جس نے ابتدائی روبوٹ بنائے
ماخذ: بورسا کا محاصرہ؛ نیقیہ کا محاصرہ (1328–1331)؛ اورحان؛ مسلم ہیریٹیج: ابتدائی عثمانی دور میں مدرسہ تعلیم؛ سلک روڈ سیاٹل: بورسا؛ کوئن ویک: قرونِ وسطیٰ کے عثمانی سلاطین کے سکے؛ اورحان غازی اور یورپ میں پہلا عثمانی قدم؛ سلیمان پاشا (اورحان کے بیٹے)۔
Discover more from ImranJalna
Subscribe to get the latest posts sent to your email.










Leave a Reply