حضرت ابراہیم علیہ السلام وہ پیغمبر ہیں جنہیں خود اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیل یعنی گہرا دوست فرمایا (سورہ النساء 4:125)۔ نوجوانی میں انہوں نے اپنی قوم کے بتوں پر سوال اٹھایا، انہیں آگ میں ڈالا گیا جسے اللہ نے ٹھنڈا کر دیا، اللہ کے حکم پر اہلیہ اور شیرخوار بیٹے کو ایک بنجر وادی میں چھوڑا، لختِ جگر کی قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور اپنے ہاتھوں سے کعبہ کی دیواریں بلند کیں۔ آج بھی ہر نماز میں ہم ان کا ذکر کرتے ہیں اور ہر سال لاکھوں حاجی ان کے گھرانے کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں۔

مکمل ویڈیو دیکھیں: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ – قصص الانبیاء قسط 1، روحانی دعا یوٹیوب چینل پر۔
ایک نظر میں
| لقب | خلیل اللہ (سورہ النساء 4:125) |
| آپ کے نام کی سورت | سورہ ابراہیم (14)، 52 آیات |
| والد | آزر (سورہ الانعام 6:74) |
| صاحبزادگان | حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق علیہما السلام (سورہ ابراہیم 14:39) |
| اہم مقامات | الانعام 6:74–83، مریم 19:41–50، الانبیاء 21:51–73، الصافات 37:83–113، البقرہ 2:124–132 |
| مقام | اولوالعزم رسولوں میں سے (سورہ الاحزاب 33:7) |
حق کی تلاش میں ایک نوجوان
حضرت ابراہیم علیہ السلام ایسی قوم میں پیدا ہوئے جو اپنے ہاتھوں سے بت تراشتی اور پھر انہیں کو سجدہ کرتی تھی۔ آپ کے والد آزر بھی انہیں میں سے تھے۔ قرآن نے بیٹے کی نرم گفتگو محفوظ کی ہے: “ابا جان! آپ اس کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے اور نہ آپ کے کسی کام آ سکتا ہے؟” (سورہ مریم 19:42)۔ باپ نے سنگسار کرنے کی دھمکی دی، پھر بھی بیٹے نے کہا: “آپ پر سلام ہو، میں اپنے رب سے آپ کے لیے مغفرت مانگوں گا” (19:46–47)۔
سورہ الانعام بتاتی ہے کہ آپ نے قوم کو سوچنے پر کیسے آمادہ کیا۔ پہلے ایک ستارے کو دیکھا، پھر چاند کو، پھر سورج کو، اور جب ہر ایک ڈوب گیا تو فرمایا: “میں ڈوب جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا” (6:76–78)۔ پھر اعلان فرمایا:
إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ
مفہوم: “میں نے یکسو ہو کر اپنا رُخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمان و زمین پیدا کیے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔” (سورہ الانعام 6:79)
بت شکنی کا واقعہ
ایک دن جب قوم اپنے میلے میں گئی ہوئی تھی، حضرت ابراہیم علیہ السلام بت خانے میں گئے اور سب بتوں کو پاش پاش کر دیا، صرف سب سے بڑے کو چھوڑ دیا (21:57–58)۔ لوگ واپس آئے اور پوچھا کہ یہ کس نے کیا، تو فرمایا: “بلکہ یہ ان کے بڑے نے کیا ہوگا، انہیں سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں” (21:63)۔ لمحے بھر کے لیے قوم کو ماننا پڑا کہ یہ بت نہ بول سکتے ہیں نہ اپنا دفاع کر سکتے ہیں، مگر پھر غرور آڑے آ گیا۔
قرآن میں ایک بادشاہ سے آپ کے مناظرے کا ذکر بھی ہے جو زندگی اور موت پر اختیار کا دعویٰ کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا: “اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو اسے مغرب سے نکال لا۔” یہ سن کر وہ کافر مبہوت رہ گیا (سورہ البقرہ 2:258)۔ بہت سی روایات کے مطابق یہ بادشاہ نمرود تھا، اگرچہ قرآن نے اس کا نام نہیں لیا۔
جب آگ ٹھنڈی اور سلامتی والی بن گئی
قوم پکار اٹھی: “اسے جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو” (21:68)۔ ایک عظیم آگ بھڑکائی گئی اور آپ کو اس میں ڈال دیا گیا (37:97)۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آگ میں ڈالے جاتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر یہ کلمات تھے: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ – “ہمیں اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے” (صحیح بخاری 4563)۔ پھر اللہ کا حکم آیا:
قُلْنَا يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
مفہوم: “ہم نے کہا: اے آگ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔” (سورہ الانبیاء 21:69)
ان کی سازش ناکام ہوئی اور اللہ نے انہیں کو خسارے میں ڈال دیا (21:70)۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وطن چھوڑا اور فرمایا: “میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں” (29:26)، اور آپ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام بھی ساتھ تھے۔
حضرت ہاجرہ، ننھے اسماعیل اور آبِ زمزم
اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور شیرخوار حضرت اسماعیل کو ایک ایسی وادی میں چھوڑ آئے جہاں نہ پانی تھا نہ کوئی آدمی۔ آج وہیں مکہ مکرمہ آباد ہے۔ سورہ ابراہیم میں آپ کی دعا ہے: “اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کو ایک بے کھیتی وادی میں تیرے حرمت والے گھر کے پاس بسایا ہے” (14:37)۔ صحیح بخاری 3364 کے مطابق حضرت ہاجرہ نے پوچھا: “کیا اللہ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟” جواب ملا “ہاں” تو بولیں: پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔
پانی ختم ہوا تو آپ مدد کی تلاش میں صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کے درمیان سات مرتبہ دوڑیں۔ نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسی لیے حاجی ان دونوں کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ پھر ایک فرشتے نے زمین پر ضرب لگائی اور زمزم کا چشمہ پھوٹ پڑا (صحیح بخاری 3364)۔ ایک ماں کا توکل حج کا رکن بن گیا اور وہ چشمہ آج تک جاری ہے۔
ذبحِ عظیم
جب بیٹا باپ کے ساتھ دوڑ دھوپ کے قابل ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: “اے میرے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟” بیٹے نے عرض کیا: “ابا جان! جو حکم ملا ہے وہ کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے” (سورہ الصافات 37:102)۔ جب دونوں نے سرِ تسلیم خم کر دیا تو اللہ نے پکارا کہ تم نے خواب سچ کر دکھایا، اور بیٹے کے بدلے ایک “ذبحِ عظیم” عطا کیا (37:104–107)۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے، کیونکہ حضرت اسحاق کی بشارت اس کے بعد آتی ہے (37:112)۔ عیدالاضحیٰ کی قربانی اسی لمحے کی یادگار ہے۔
تعمیرِ کعبہ
برسوں بعد باپ بیٹے نے مل کر بیت اللہ کی بنیادیں اٹھائیں، اور کام کرتے ہوئے یہ دعا مانگتے رہے:
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
مفہوم: “اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔” (سورہ البقرہ 2:127)
انہوں نے یہ دعا بھی کی کہ اہلِ مکہ میں سے ہی ایک رسول مبعوث ہو (2:129)، اور یہ دعا حضور نبیِ کریم ﷺ کی صورت میں قبول ہوئی۔ پھر اللہ نے حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کرو (22:27)۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں جو یاد رکھنی چاہئیں
- گھر والوں کی نماز کے لیے: رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ – “اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا، اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما۔” (14:40)
- نیک اعمال کی قبولیت کے لیے: رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا (2:127)
- مشکل گھڑی میں: حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (3:173؛ صحیح بخاری 4563)
آج ہمارے لیے سبق
- غور کرو، پھر یقین کرو: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عقل اور مشاہدے سے توحید کا راستہ دکھایا۔
- حق بات، ادب کے ساتھ: سخت مزاج باپ سے بھی آپ نے نرمی سے بات کی۔
- توکل کا مطلب ہاتھ پر ہاتھ رکھنا نہیں: حضرت ہاجرہ نے اللہ پر بھروسہ کیا اور پھر بھی صفا و مروہ کے درمیان دوڑیں۔
- اللہ کے لیے سب سے عزیز چیز: ہر آزمائش میں کامیابی نے آپ کا درجہ بڑھایا، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو انسانوں کا امام بنا دیا (2:124)۔
آپ کی عزت آخرت میں بھی قائم رہے گی۔ نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا (صحیح بخاری 3349)۔ اور ہر نماز کے درودِ ابراہیمی میں ہم کہتے ہیں: “جیسے تو نے ابراہیم اور آلِ ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی” (صحیح بخاری 3370)۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل اللہ کیوں کہا جاتا ہے؟
اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنا لیا” (سورہ النساء 4:125)۔ خلیل کا مطلب ہے نہایت قریبی دوست۔
آگ میں ڈالے جاتے وقت حضرت ابراہیم نے کیا کہا؟
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق آپ نے “حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْل” کہا (صحیح بخاری 4563)، اور اللہ نے آگ کو آپ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا (21:69)۔
حج کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا تعلق ہے؟
آپ نے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کعبہ تعمیر کیا (2:127)، آپ کو حج کا اعلان کرنے کا حکم ملا (22:27)، سعی حضرت ہاجرہ کی پانی کی تلاش کی یاد ہے (بخاری 3364)، اور عیدالاضحیٰ کی قربانی ذبحِ عظیم کی یادگار ہے (37:107)۔
مزید پڑھیں: حضرت نوح علیہ السلام اور کشتی کا واقعہ · اسلام میں صبر اور شکر کی اہمیت
ماخذ: قرآن – الانعام 6:74–83، الانبیاء 21:51–73، الصافات 37:83–113، البقرہ 2:124–132، ابراہیم 14:35–41۔ حدیث – صحیح بخاری 3364، 4563، 3349، 3370۔
Discover more from ImranJalna
Subscribe to get the latest posts sent to your email.










Leave a Reply