جکارتہ: دنیا کے سب سے زیادہ مسلم آبادی والے ممالک میں شامل انڈونیشیا میں صدر پرابوو سوبیانتو نے ایک نئی مشاورتی کونسل تشکیل دی ہے، جس میں کاروباری شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور نمایاں سابق اسلامی رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے۔
اسلامی اداروں کا سیاسی و سماجی وزن
انڈونیشیا میں بڑی اسلامی تنظیمیں تعلیم، سماجی خدمت اور عوامی رائے پر گہرا اثر رکھتی ہیں۔ اسی لیے قومی سطح کی مشاورتی ساخت میں اسلامی شخصیات کی شمولیت سیاسی طور پر اہم سمجھی جاتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب حکومت عوامی حمایت اور پالیسی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
کونسل سے کیا توقع؟
مشاورتی ادارے براہ راست حکومت نہیں چلاتے، لیکن معاشی، سماجی اور سیاسی معاملات میں صدر کو رائے دے سکتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہوگا کہ کونسل قومی پالیسی، مذہبی ہم آہنگی اور معاشی ترجیحات پر کتنا اثر ڈالتی ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا کی اسلامی خبریں ImranJalna.com پر پڑھیں۔
ماخذ: Reuters
Discover more from ImranJalna
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।











Leave a Reply