اسلام آباد/ریاض: پاکستان کے وزیر خارجہ کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے نمائندے خطے کی تازہ کشیدگی اور یمن کے حوثیوں سے سیاسی رابطے کی تجویز پر ہنگامی مشاورت کریں گے۔ رائٹرز کے مطابق یہ تجویز بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے درمیان سفارتی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کے طور پر سامنے آئی ہے۔
فوجی تناؤ کے مقابل سفارتی راستہ
خطے میں میزائل، ڈرون اور بحری سلامتی سے متعلق واقعات نے خلیجی ممالک سمیت عالمی برادری کی تشویش بڑھائی ہے۔ ایسے میں سیاسی رابطے کی تجویز اہم سمجھی جا رہی ہے، تاہم کسی بھی ممکنہ مذاکرات کی شکل اور نتائج ابھی واضح نہیں ہیں۔
مسلم ممالک کا کردار
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان مسلم دنیا کے اہم ممالک ہیں۔ ان کے درمیان سلامتی اور سفارت کاری پر مشاورت کے اثرات صرف یمن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحیرۂ احمر، خلیج اور عالمی تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
مزید تجزیے اور اسلامی دنیا کی خبریں ImranJalna.com پر پڑھیں۔
ماخذ: Reuters
Discover more from ImranJalna
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।








Leave a Reply