مدرسہ سیدنا حضرت علیؓ، جالنہ کا بارہواں روحانی اجلاس عام — 45 طلباء و طالبات کی قرآنی و دینی کامیابی، اساتذہ کو ’نشانِ اعزاز‘ سے نوازا گیا
جالنہ (نمائندہ خصوصی):
مدرسہ سیدنا حضرت علیؓ، واقع چوک مسجد قادرآباد، جالنہ میں 28 اپریل 2025 بروز پیر بعد نماز مغرب ایک عظیم الشان روحانی اجلاس عام کا انعقاد کیا گیا۔ اس اجلاس کی صدارت مفتی فہیم صاحب (صدر، جمعیۃ علماء نیا جالنہ) نے فرمائی، جب کہ نگرانی مولانا رئیس احمد صاحب (صدر، دینی تعلیمی بورڈ ضلع جالنہ) اور سرپرستی الحاج محمد عبداللہ صاحب (صدر، چوک مسجد) کے زیر سایہ عمل میں آئی۔
پروگرام کی ابتدا اور روحانی ماحول
اجلاس کا آغاز قاری دانش عمران کی پرکیف تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کے بعد حسان اعزازالدین فاروقی نے نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم انتہائی دلنشیں انداز میں پیش کی۔ مسجد کا ماحول نور و رحمت سے معمور ہو گیا۔
طلباء کی کامیابیاں اور تعلیمی مظاہرہ
مدرسہ کے 45 طلباء و طالبات نے نہ صرف ناظرہ قرآن کریم مکمل کیا بلکہ پانچ سالہ دینیات کورس بھی کامیابی سے مکمل کیا۔ ان میں سے 25 طلباء نے پارہ عم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔
پنجم کے طلباء نے تعلیمی مظاہرے میں عقائد، مسنون دعائیں، احادیث، اور شرعی مسائل پر سوالات کے جوابات دیے۔ حاضرین نے بچوں کی ذہانت اور تیاری پر دل کھول کر داد دی اور انعامات سے نوازا۔
مفتی محمد فاروق صاحب کا خصوصی خطاب
مہمان خصوصی مفتی محمد فاروق جالنوی نے اپنی پراثر گفتگو میں کہا کہ دینی مکاتب کی اہمیت ناقابلِ انکار ہے۔ ان معصوم بچوں نے ثابت کیا کہ عقائد، سنتیں، اور نماز کی پابندی زندگی کا اہم جز ہیں۔ انہوں نے والدین کو تلقین کی کہ بچوں کو مسجد سے جوڑ کر رکھیں تاکہ وہ دین سے وابستہ رہیں اور نیک کردار بنیں۔
دعاے ختم قرآن و صدارتی خطاب
پروگرام کے آخری حصہ میں ناظرہ مکمل کرنے والے طلباء نے آخری سورتوں کی تلاوت کی اور دعاے ختم قرآن پڑھی۔ مفتی فہیم صاحب نے صدارتی خطاب میں قرآن کریم کی فضیلت بیان کی اور دعا کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے ہدایت، استقامت، اور خیر کا طلب کیا۔
تعریفی اسناد اور انعامات کی تقسیم
مدرسہ کے 45 طلباء و طالبات کو “آسان معانی قرآن” (مولانا بلال عبدالحیی حسنی کی تالیف) اور اسناد دی گئیں۔ اس کے علاوہ، مختلف درجات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 51 طلباء و طالبات کو ٹرافیاں دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔
نشانِ اعزاز — اساتذہ کی خدمت کا اعتراف
پروگرام کا سب سے نمایاں اور جذباتی لمحہ وہ تھا جب ناظم مدرسہ حافظ اعزازالدین فاروقی نے اعلان کیا کہ حافظ رئیس صاحب اور حافظ سہیل صاحب نے پورے تعلیمی سال (2024-25) میں ایک دن کی بھی غیر حاضری نہیں کی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’نشانِ اعزاز‘ سے نوازا گیا۔
یہ اعزاز الحاج محمد عبداللہ، مولانا رئیس احمد اور ماسٹر شریف صاحب کے ہاتھوں ٹرافی کی شکل میں پیش کیا گیا، جس پر تمام حاضرین نے خوشی کا بھرپور اظہار کیا اور جلسہ گاہ “اللہ اکبر” اور “الحمدللہ” کی صداؤں سے گونج اٹھا۔
اختتامی کلمات اور دعائیں
ناظم مدرسہ نے تمام مہمانانِ گرامی، اساتذہ، منتظمین اور طلباء و طالبات کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اجلاس کو کامیاب بنانے میں کردار ادا کیا۔ پروگرام کا اختتام مولانا رئیس احمد صاحب کی پُراثر دعا پر ہوا، جس میں سب کے لیے علم، عمل، صحت، اور دین کی استقامت کی دعا کی گئی۔
© http://www.imranjalna.com — تمام حقوق محفوظ ہیں



Nayi Soch News-e-Hub से और जानें
नवीनतम पोस्ट अपने ईमेल पर प्राप्त करने के लिए सदस्यता लें।
































































































Leave a Reply